بہار میں 77 ہزار اساتذہ کی نوکری چھن جائے گی، تنخواہ بھی وصول ہوگی، کیوں ہوگا ایسا ؟

بہار میں ہزاروں سرکاری اساتذہ کی نوکریوں سے ہاتھ دھونے کا خطرہ ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ان اساتذہ کے نام سرکاری دستاویزات میں نہیں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس غفلت کی وجہ سے 77 ہزار اساتذہ کو نوکریوں سے ہاتھ دھونا پڑ سکتے ہیں۔

آج تک سے وابستہ سوجیت جھا کی رپورٹ کے مطابق ان اساتذہ کی تقرری 2006 سے 2015 کے درمیان ہوئی تھی۔ ان سالوں میں ساڑھے تین لاکھ سے زائد اساتذہ کو نوکریاں ملیں۔ ذرائع کے مطابق محکمہ تعلیم کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ 77 ہزار اساتذہ کے ریگولر فولڈرز میں دستاویزات نہیں ملی ہیں۔ جس کی وجہ سے ان اساتذہ کی نوکری ختم ہو سکتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ معاملہ پٹنہ ہائی کورٹ تک پہنچ گیا ہے۔ ہائی کورٹ نے ویجیلنس انویسٹی گیشن بیورو (VIB) کو تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ کئی ڈیڈ لائن کے باوجود اس ‘گمشدہ فولڈر’ کیس کی تفتیش مکمل نہیں ہو سکی۔ ویجیلنس بیورو نے اس معاملے میں ایک ہزار سے زیادہ ایف آئی آر درج کی ہیں۔ الزام لگایا گیا کہ 2006 سے 2015 کے درمیان تعینات ہونے والے ان اساتذہ کی تقرری غیر قانونی طور پر کی گئی تھی۔

گزشتہ سال بہار کے محکمہ تعلیم کے ڈائریکٹر نے تمام ضلعی تعلیمی افسروں (DEOs) کو نوٹس جاری کیا تھا۔ اس میں ایسے اساتذہ کی معلومات ایک فولڈر میں اپ لوڈ کرنے کا کہا گیا تھا۔ محکمہ نے کہا تھا کہ اگر کاغذات اپ لوڈ نہیں کیے گئے تو یہ سمجھا جائے گا کہ اس کی تقرری غیر قانونی ہے اور اسے نوکری سے ہٹانے کا عمل شروع کیا جائے گا۔ اس کے باوجود دستاویزات اپ لوڈ نہیں کی گئیں۔ اس غفلت کی وجہ سے محکمہ تعلیم ہزاروں اساتذہ کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے۔ یہ اساتذہ اپنی ملازمتوں سے بھی محروم ہو سکتے ہیں۔

تنخواہ بھی نکالی جا سکتی ہے بہار میں اساتذہ سے جڑے اس معاملے میں ضلعی افسران کی جانب سے لاپرواہی برتی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق کہا جا رہا ہے کہ اگر فولڈرز خالی رہے تو سمجھا جائے گا کہ اساتذہ کی تقرری غیر قانونی ہے۔ جس کے بعد اساتذہ کو جاری کی گئی تنخواہ کی وصولی کا عمل شروع کیا جائے گا۔ آج تک

اب تک کی رپورٹ کے مطابق بہار میں 2006 سے 2015 کے درمیان کل 3 لاکھ 52 ہزار اساتذہ کی بھرتی کی گئی تھی۔ اس میں 3 لاکھ 11 ہزار پرائمری اساتذہ تھے۔ ایک لاکھ چار ہزار شکشا مترا اس میں شامل تھے۔ ساتھ ہی اس فہرست میں 2,082 لائبریرین بھی شامل تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.