پانچ قسم کے لوگ ہمیشہ غریب رہتے ہیں

پانچ قسم کے لوگ ہمیشہ غریب رہتے ہیں

دنیا میں دو قسم کے لوگ رہتے ہیں ایک امیر اور ایک غریب، غربت کی ذہنیت رکھنے والے اگر اتفاق سے امیر بن بھی جائیں تو وہ پھر سے غریب ہوجاتے ہیں۔ مشہور ٹی۔ وی پروگرام “کون بنے کا کروڑ پتی” پر بہت ساری ڈسکشن ہوئی ہے، کہ کیسے اس پروگرام کے ذریعہ کروڑ پتی بناجائے بہت سوں نے اسکی مخالفت بھی کی اور کچھ لوگ اس سے کروڑ پتی بھی بن گئے۔ لیکن کوئی یہ نہیں بتاتا کہ جو لوگ ایک رات میں کروڑ پتی بن گئے
اب انکی صورتحال کیا ہے؟؟
سن دوہزار پانچ میں ملک کے موقر انگریزی اخبار “دی ٹیلی گراف” نے ایک رپورٹ شائع کی جس میں ٹی۔ وی۔ شو سے کروڑ پتی بننے والوں کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ ان میں سے بیش تر افراد پہلے کی طرح غریب پائے گئے۔ بہت کم لوگ ہی تھے جو امیر رہ سکے۔
دراصل انسان خیالات ہی کی پیداوار ہوتا ہے۔ اسکے خیالات ہی اسے امیر یا غریب بناتے ہیں ۔
اس کا مطلب کیا ہے؟؟
اس کا مطلب یہ ہیکہ غریبی ہو یا امیری یہ ایک “مائنڈ سیٹ” کا نام ہے۔ آج اس رائٹ اپ میں ایسے لوگوں کی پانچ قسمیں بتائی جارہی ہیں جو امیر بننا چاہتے ہیں کوشش بھی کرتے ہیں لیکن پھر بھی غریب رہ جاتے ہیں۔
ناکامی سے ڈرنے والے لوگ
دنیا میں ناکامی نام کی کوئی چیز نہیں ہے یا تو ہم کامیاب ہوتے ہیں یا ہم کچھ سیکھتے ہیں۔ کامیابی حتمی ہوتی اور ناہی ناکامیابی حتمی ہوتی ہے صرف ہمت دیکھی جاتی ہے کہ آپ کب تک استقامت کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔
اگر میں ناکام ہوگیا تو کیا ہوگا؟؟
لوگ کیا کہیں گے؟؟
یہ سوچ آگے نہیں بڑھنے دیتی ہے اور آپ نئے تجربے نہیں کرپاتے اور اپنے آئیڈیاز کو خود اپنے ہی ہاتھوں ختم کردیتے ہیں۔ جب سوچ ایسی ہوتی ہیکہ
“یہ تو بہت مشکل ہے”
“خطرناک ہے”
“یہ کام میرے بس کا نہیں ہے”
“کچھ کرنے کیلئے میرے پاس اتنی اسکلس نہیں ہیں”
“اس سے پہلے کسی نے ایسا کیا ہو گاکیا؟”
امیر لوگ کبھی بھی ناکامی سے نہیں ڈرتے ہیں۔وہ جانتے ہیں کہ ناکامی ہی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے؂
یہ سوچ کر شکست پر ہم مسکرا دیے
ناکامیوں نے جیت کے گُر تو سکھا دیے
۔شکایت کرنے والے لوگ
شکایت کرنے والے لوگ ہمیشہ غریب رہ جاتے ہیں، غریب لوگ اپنی غریبی کی “وجہ” بتاتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میرا بیک گراونڈ نہیں ہے، سرمایہ کی کمی کی وجہ سے میں کچھ نہیں کرپایا، حکومت کی پالیسیاں غلط ہیں، جی ایس ٹی آگئی، نوٹ بندی ہوگئی، مارکٹ ہی ٹھندا ہے، لاک ڈاون ہے، موسم ہی درست نہیں ہے۔وغیرہ۔وغیرہ۔
اپنی لرننگ کو بند کردینے والے لوگ
غریب لوگ عموما یہ سوچتے ہیں کہ انہیں سب معلوم ہے۔ کسی سے کچھ سیکھنا نہیں چاہتے۔ سوشل میڈیا پر زیادہ وقت صرف کرتے ہیں، لرننگ کے بجائے انٹرٹینمیٹ پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ آپ کی کامیابی کبھی بھی آپ کی “پرسنالیٹی ڈیولیپمنٹ” کے آگے نہیں جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہیکہ آپ جتنا سیکھیں گے اتنی زیادہ کامیابی حاصل کریں گے۔ امیر لوگ سیکھنے کیلئے سفر کرتے ہیں اور پیسہ بھی خرچ کرتے ہیں۔ خرچ ہونے والے پیسے کو امیر لوگ انویسٹمینٹ سمجھتے ہیں۔ جبکہ غریب لوگ کسی سے کچھ سیکھنے میں ہتک محسوس کرتے ہیں۔ اور اکثر اوقات تعصب کا شکار ہوجاتے ہیں۔

۔جو لوگ اپنا محاسبہ نہیں کرتے
اپنے اندرون میں جھانکنے کے بجائے ہر مرتبہ باہر کی دنیا کی طرف دیکھتے ہیں۔ انکے پاس ایک وجہ ہوتی ہے، مجھے فلاں نے ایسا کہا۔۔۔۔ اسلئے۔۔۔فلاں کی بدمعاشی کی وجہ سے۔۔۔اپنا مقابلہ دوسروں سے کرتے ہیں۔ جبکہ امیر لوگ اپنے اندرون کی کمزوریوں پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہیں اور ہمیشہ اپنی اصلاح کیلئے تیار رہتے ہیں۔ یاد رکھئے اپنے بس میں جو ہو صرف اسکی بات کرنے والے کبھی غریب نہیں رہتے۔

۔جلدی ہار مان لیتے ہیں
اندیشوں کے گرفتار جلد تھک جانے والے اور جلد ہتھیار ڈالنے والے لوگ غریب رہ جاتے ہیں ، مسلسل انتھک محنت سے نا گھبرانے اور ڈٹ کر کھڑے رہ جانے والے اور اَڑ جانے والے لوگ بالآخر آگے بڑھ جاتے ہیں، غریب لوگ تھوڑے سے کام سے گبھرا جاتے ہیں اور بہت جلد ہار مان لیتے ہیں۔
کے۔ ایف۔ سی۔ کے مالک کرنل سینڈیرس KFC کی ریسیپی لے کر ایک ہزار لوگوں تک گیا اور اپنا خواب بتایا کہ وہ ساری دنیا میں کے ایف سی کی دوکانیں کھولنا چاہتے ہے۔ کچھ نے انہیں پاگل سمجھا اور بہت سوں نے مذاق اڑایا آخر کار انیس سو باون میں پیٹی ہرمن سے ایک کانفرنسں میں ملاقات ہوئی اور دونوں نے پارٹنر شپ میں کنٹکی فرائیڈ چکن کی بنیاد رکھی جو آج دنیا کی سب سے موقر اور میک ڈونالڈ کے بعد دوسری بڑی فاسٹ فوڈ چین ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہیکہ کامیابی ملنے ہی والی ہوتی ہے اور اس سے عین قبل ہم ہمت ہار جاتے ہیں۔

تو آپ غریب نہیں رہنا چاہتے ہیں تو اٹھیں
ناکامیوں سے نا گھبرائیں!
شکایتیں کرنا بند کردیں!
نئی نئی چیزیں سیکھیں!
اپنا محاسبہ خود کریں!
اور جلدی ہار نہ مانیں!

خوش رہیں، خوشیاں بانٹتے رہیں

سید معزالرحمان،ناندیڑ

 179 total views,  1 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published.