فلسطین کی خبریں بھارت کے میڈیا کا کردار نازیبا

قضیہ فلسطین و اسرائیل اور گودی میڈیا

میڈیا کی بد دیانتی اور جانبدار رویہ اہل نظر سے مخفی نہیں ہے، میڈیا جس کا کام یہ تھا کہ پیش آمدہ مسائل میں کتروبیونت کئے بغیر حقائق سے پردہ اٹھاتا، اہل دنیا کو دنیا میں جاری مکر وفریب سے آگاہ کرتے ہوئ

 ظالموں کے خلاف آواز بلند کرتا، بلکتی انسانیت اور سسکتی مانوتا کی حمایت میں گہار لگاتے ہوئے احقاق حق اور ابطال باطل کا واجبی کردار ادا کرتا، لیکن معاملہ اور مشاہدہ اس کے بالکل بر عکس ہے اور ایسا اس لئے ہے کہ میڈیا کی باگ ڈور ایسے انسانیت دشمن افراد کے ہاتھوں ہے جنہوں نے ایک زمانہ تک زندہ انسانوں کو جلا کر اس کی روشنی میں تفریحات کی محافل سجائیں ہیں اور انسانیت کے ساتھ وہ ننگا ناچ کیا ہے جس سے کلیجا تھرا جاتا ہے۔

پچھلے کچھ دنوں سے اسرائیل کے انسان نما درندے فلسطین میں جس بے دردی اور ظالمانہ کارروائی کا ثبوت دے رہے ہیں وہ پوری دنیا کے سامنے ہے، اور یہ کوئی پہلی دفعہ نہیں ہے بلکہ سات دہائیوں سے یہ کھیل کھیلا جا رہا ہے، یہ کون نہیں جانتا کہ اسرائیل کا قیام ایک ظالمانہ اقدام اور سامراجیت کی منہ بولتی تصویر ہے جس کو ہمارے اپنوں کی حماقت اور غیروں کی سازش سے انجام دیا گیا، جس میں عربوں کے ہاتھ پاوں باندھ کر برطانیہ نے اپنے اثر ورسوخ اور مکر وفریب کو بروے کار لاتے ہوئے پاے تکمیل تک پہونچایا اور مزاحمت کرنے والے غیور مسلمانوں کو سلاخوں کے حوالہ کرتے ہوئے سخت اذیتیں دیں، یہ کوئی افسانہ نہیں بلکہ تاریخ کا رلا دینے والا باب ہے جس کے سارے دستاویزات موجود ہیں۔

جب سے ظلم و ستم کا یہ سلسلہ شروع ہوا ہے ہم اپنے ملک عزیز بھارت میں میڈیا کا جو چہرہ دیکھ رہے ہیں وہ انتہائی افسوسناک بھی ہے اور تکلیف دہ بھی، ہم نے کئی اینکرس کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ “آتنکی حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا” میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا گودی میڈیا کو یہ معلوم بھی ہے کہ حماس کون ہے؟ اس کا ارادہ اور منصوبہ کیا ہے؟ اس کے قائم کرنے والے کون ہیں اور انکی زندگی کتنی صاف وشفاف ہے؟ کچھ معلوم نہیں لیکن آتنکی گھوشت کرنے کا ٹھیکا اٹھا رکھا ہے، ملک میں بڑھتی بے روزگاری پر سوال اٹھانے کی جرات نہیں، مرض کے پس پردہ ہو رہی کالا بازاری پر بات کرنے کی فرصت نہیں، پورا ملک چتاوں کے دھویں سے قبروں کی دھول سے پریشان ہے اس کی کوئی پرواہ نہیں لیکن تعصب اور مسلم دشمنی کا ثبوت دینے کے لئے حماس کو آتنکی بتانے کا وقت ہے۔۔۔ واہ رے گودی میڈیا، اس موقع پر مناسب ہوگا کہ آپ کو میں یہ بتاتا چلوں کہ آج کی موجودہ میڈیا آتنکی ان کو کہتی جو اپنے حق کی لڑائی لڑتے ہوئے ظالم کے سامنے سینہ سپر رہتا ہے اور اس کی طرح بھی برطانیہ نے ہی ڈالا جب اس کا وقت زوال آیا اور جہاں جہاں آیا اس نے انصاف پسندوں کو دہشت گرد اور آتنک واد اور اپنے ظالم ہمنواؤں کو امن پسند گردانا، ہندوستان میں بھی مسلمانوں کو دہشت گرد اسی ناجائز منصوبہ کے تحت کہا جاتا ہے۔۔۔ میں میڈیا اور ارباب میڈیا سے بس اتنا کہنا چاہوں گا کہ اگر حقائق سے روشناس نہیں کرا سکتے تو خدا را حقائق کو مسخ کرکے بھی پیش نہ کیجئے، اور تمام احباب سے یہ درخواست کروں گا کہ ظالموں کو ہتھکنڈوں کو سمجھنے کی کوشش کیجئے، میڈیا پر ہم جس طرح بے چوں چراں بھروسا کرتے ہیں وہ سم قاتل ہے، ان کے رواة کو پہچاننے کی کوشش کیجئے ان کی سند عن شیطان عن ابلیس والی ہے اس لئے بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔۔۔۔

 52 total views,  4 views today