اردو ادب کا دکنی دور

 اردو ادب کا دکنی دور
١: عادل شاہی دور _ ٢: قطب شاہی دور

علاؤ الدین خلجی کے حملے نے دکن کی زبان اور تہذیب و تمدن کو بہت متاثر کیا۔ مرکز سے دور ہونے کی وجہ سے علاؤ الدین خلجی نے یہاں ترک سرداروں کو حکمران بنا دیا۔ بعد میں محمد تغلق نے دہلی کی بجائے دیوگری کو دار السلطنت قرار دے کر ساری آبادی کو وہاں جانے کا حکم دیا۔ جس کی وجہ سے بہت سے مسلمان گھرانے وہاں آباد ہوئے۔ محمد تغلق کی سلطنت کمزور ہوئی تو دکن میں آزاد بہمنی سلطنت قائم ہوئی اور دکن، شمالی ہندوستان سے کٹ کر رہ گیا۔ بعد میں جب بہمنی سلطنت کمزور ہوئی تو کئی آزاد ریاستیں وجود میں آگئیں۔ ان میں بیجا پور کی عادل شاہی حکومت اور گولکنڈہ کی قطب شاہی حکومت شامل تھی۔ ان خود مختار ریاستوں نے اردو زبان و ادب کے ارتقا میں اہم کردار ادا کیا۔ بہت سے اصحاب علم و فضل اور شعرا و ادبا دکن پہنچے۔

(( بیجا پور کی عادل شاہی حکومت ))

عادل شاہی حکومت کی بنیاد 895ءہجری میں پڑی۔ یہاں کا پہلا حکمران یوسف عادل شاہ تھا۔ بہمنی ریاست کے زوال کے بعد یوسف شاہ نے اپنی آزاد حکومت قائم کی۔ یہ حکومت دو سو سال تک قائم رہی اور نو بادشاہ یکے بعد دیگرے حکومت کرتے رہے۔ ابتدائی صدی میں دکنی زبان کی ترقی کے لیے کچھ خاص کام نہیں ہوا اور ایرانی اثرات، شیعہ مذہب اور فارسی زبان دکنی زبان کی ترقی میں بڑی رکاوٹ بنے۔ لیکن اس کے برعکس دور عادل شاہی کی شاہی سرپرستی دوسری صدی میں اردو و ادب کی ترقی میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔ ابراہیم عادل شاہ ثانی اور ان کے جانشین محمد عادل شاہ نے اس سلسلے میں دکنی زبان کی جانب خصوصی توجہ دی۔ محمد عادل شاہ کے جانشین علی عادل شاہ ثانی نے دکنی کو اپنی زبان قرار دیا۔ چنانچہ اس صدی میں شاہی سرپرستی کی وجہ سے ادب میں درباری رنگ پیدا ہوا۔ اصناف سخن کی باقاعدہ تقسیم ہوئی۔ قصیدے اور غزلیں کہی گئیں اور شاعری کا ایک اعلیٰ معیار قائم ہوا۔ اس کے علاو ہ صوفیا نے بھی یہاں کی زبان پر گہرے اثرات چھوڑے۔
عادل شاہی دور میں اردو کے فروغ و ترویج کے مختصر جائزے کے بعد آئیے اب اس دور کے شاعروں کا مختصر تذکرہ کریں تاکہ زبان و ادب کے ارتقاءکا اندازہ ہو سکے۔

اشرف بیابانی :

شاہ اشرف کے آبائو اجداد کا تعلق سندھ سے تھا۔ آپ جنگلوں، بیابانوں میں رہنے کی وجہ سے بیابانی مشہور ہوئے۔ ان کی تصانیف میں مثنوی ”نوسر ہار“ نمایان حیثیت کی حامل ہے۔ جس میں واقعات کربلا کا ذکر ہے۔ ساتھ ہی امام حسین کی شہادت کے واقعات کو بڑے موثر اوردرناک انداز میں بیان کیا ہے۔ اس مثنوی کے علاوہ ”لازم المبتدی“، ”واحد باری“ دو منظوم فقہی مسائل کے رسالے ہیں۔ ایک اور تصنف ”قصہ آخرالزمان “ کا ذکر بھی آتا ہے۔

شاہ میراں جی شمس العشاق :

شاہ میراں جی بڑے عالم فاضل آدمی تھے۔ بقول ڈاکٹر نذیر احمد انہوں نے بیجاپورمیں ایسے خاندان کی بنیاد ڈالی جس میں ان کے جانشین یکے بعد دیگرے کئی پشت تک صاحب علم اور صاحبِ ذوق ہوتے رہے۔ ان کے دو فرزندوں کے نام ملتے ہیں ایک ب رہان الدین جانم اور دوسرے خواجہ عطا اللہ۔ شاہ میراں جی کو جو تصانیف ہم تک پہنچی ہیں ان میں ”خوش نامہ “ ”خوش نغز“، ”شہادت الحقیقت“ اور ”مغزمرغوب“ نظم میں ہیں اور ”مرغوب القلوب“ نثر میں۔ ان کا موضوع تصوف ہے۔ یہ تصانیف مریدوں اور عام طالبوں کے لیے بطور ہدایت لکھی گئی ہیں۔

شاہ برہان الدین جانم :

برہان الدین جانم شاہ میراں جی شمس العشاق کے بیٹے اور خلیفہ تھے۔ انہوں نے نثر اور نظم دونوں میں عارفہ خیالات اور تصوف کے مسائل پیش کیے ہیں۔ چنانچہ یہ رسالے ادبی نقطۂ نظر سے زیادہ لسانی اعتبار سے اہمیت رکھتے ہیں اور ان سے اردو زبان کے ارتقاءکو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ ”ارشاد نامہ“ ان کی خاصی طویل نظم ہے جس میں تصوف کے اہم مسائل طالب اور مرشد کے مابین سوال و جواب کی شکل میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ”حجتہ البقائ“، ”وصیت الہادی“ ”سک سہیلا“ اور کئی دوہے اور خیال بھی ان سے منسوب ہیں۔

ابراہیم عادل شاہ :

ابراہیم عادل شاہ اس دور کاچھٹا حکمران تھا اسے فنون لطیفہ سے بڑی دلچسپی تھی چنانچہ اس کے عہد میں بیجا پور علم و اد ب کا مرکز بن گیا۔ بادشاہ کو شعر وسخن سے گہرا لگائو تھا وہ خود بھی شعر موزوں کہا کرتا تھا۔ تاریخ سے بھی دلچسپی تھی اور خوش نویسی میں بھی طاق تھے۔ ابراہیم کو موسیقی سے گہرا شغف تھاجس کا واضح ثبوت اس کی کتاب”نورس “ ہے۔ جس میں ابراہیم نے مختلف راگ راگنیوں کے تحت اپنے نظم کیے ہوئے گیت پیش کیے ہیں۔

عبدل :

عبدل ابراہیم عادل شاہ کے دور کا مشہور شاعر تھا۔ ان کے حالات زندگی نہیں ملتے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس کا نام عبد القادر یا عبد المغنی تھا۔ عبد ل کی صرف ایک مثنوی ”ابراہیم نامہ “ ملتی ہے۔ ”ابراہیم نامہ“ کے سات سو سے زیادہ شعر ہیں۔ اس مثنوی میں عادل شاہ کی زندگی کے حالات قلم بند ہیں۔ اگرچہ یہ ابراہیم عادل شاہ کی مکمل سوانح عمری نہیں مگر اس میں اس کی زندگی کے اہم واقعات آ گئے ہیں۔ عبد ل

 188 total views,  8 views today