شہاب الدین کی زندگی کس کے نام ان کے واحد نیتا کہاں

شہاب الدین جیسے طلسماتی مسلم لیڈر کے ساتھ جیسی سیاسی بد سلوکی روا رکھی گئی، وہ در اصل اس ملک کے تمام مسلمانوں کی کہانی ہےـ آزادی اور تقسیمِ ملک کے بعد ایسا ماحول بنا یا بنادیا گیا کہ مسلمان اپنے سیاسی و ذہنی شعور کو غیروں کے یہاں گروی رکھنے پر مجبور ہوگئےـ ایک سے ایک اعلیٰ دماغ مسلم لیڈر بھی اگر تابعِ مہمل بن کر کسی پارٹی کا حصہ بنا رہا تو اسے ایک آدھ وزارت، گورنری، سفارت کاری وغیرہ جیسا کوئی عہدہ ملا ، جس سے اس نے ذاتی منفعت حاصل کی اور بے چارے مسلمان بس یہی جان کر خوش ہوتے رہے کہ ہماری قوم کے فلاں صاحب فلاں عہدے پر ہیں یا رہ چکے ہیں ـ اس کے بر خلاف اگر کسی مسلم لیڈر نے اپنی دانش و قوتِ عمل اور سماجی شوکت و دبدبے کے زور پر غیر معمولی عوامی مقبولیت حاصل کرلی، تو وہ فوراً ملکی سیاست کی آنکھوں میں کھٹکنے لگا، دوسری پارٹیاں اور سازشی عناصر تو دور، خود اس کی اپنی پارٹی بھی اسے زیر کرنے کی تدبیریں کرنے لگی ـ شہاب الدین کے ساتھ بھی یقینا ایسا ہی ہوا ـ ان کے خلاف جتنا کام ان کی پارٹی (آرجے ڈی) کے باہر کے سیاسی حریفوں نے کیا، وہیں خود ان کی پارٹی نے بھی انھیں دیوار سے لگانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑا ـ ہندوستانی سیاست کا مجرمانہ پس منظر کوئی حیرت انگیز بات نہیں ہے اور انصاف کے حقیقی اصولوں کے مطابق ہی ہر ملزم کے ساتھ برتاؤ ہونا چاہیے، مگر شہاب الدین کے ساتھ جو رویہ روا رکھا گیا وہ اس ملک کے صریح متعصبانہ سیاسی و قانونی نظام کو درشاتا ہے، جس کی جڑیں بڑی گہری ہیں، جس کے پیچھے ایک مخصوص ذہنیت کارفرما ہے اور یہ ذہنیت سیکولر و غیر سیکولر سبھی سیاسی اکائیوں میں مشترک ہے ـ خدا مغفرت فرمائےـ

(نایاب حسن)

 1,829 total views,  4 views today