شمس الرحمن فاروقی عہد و رجحان کے ترجمان :خالد مشر خالد مبشر

ہم نے حالی، شبلی اور امداد امام اثر کو نہیں دیکھا لیکن شمس الرحمٰن فاروقی کو دیکھا ہے اور فاروقی کا نام اردو کی تاریخ میں انھیں اکابرین کے ساتھ لیا جائے گا۔

فاروقی عہد ساز اور رجحان ساز ہی نہیں بلکہ خود ایک عہد اور ایک رجحان کا نام ہے۔

حالی تا کلیم الدین احمد اکثر بڑے نقادوں نے ہماری کلاسیکی روایت پر ہمارے اندر احساسِ کمتری اور احساسِ ندامت پیدا کیا کہ یہ غزل، قصیدہ، مثنوی، مرثیہ اور داستان بہت طفلانہ، ناپختہ ذہن کی پیداوار، فرسودہ، عیاشانہ، خوشامدانہ، تملقانہ، توہم پرستانہ، نیم وحشیانہ، خواب آور اور پست قسم کی چیزیں رہی ہیں۔

ہماری پیڑھی پر شمس الرحمٰن فاروقی کا سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ انھوں نے اپنے کلاسیکی سرمائے کی عظمت روشن کرکے ہمارے اندر اپنی تہذیب اور ادب کے حوالے سے احساسِ تفاخر پیدا کیا۔اسی بنا پر میں انھیں جدیدیت کے ساتھ کلاسیکیت شناسی کا بھی امامِ اعظم سمجھتا ہوں۔

فاروقی صاحب کا دوسرا امتیاز یہ ہے کہ ہم ادب کا کوئی تصور فاروقی کے بغیر نہیں کر سکتے۔ذرا سوچیے کہ ہم ادب کے کس علاقے میں فاروقی سے فرار اختیار کرسکتے ہیں؟
داستان، کلاسیکی غزل، میر شناسی،شرحیات، لغت، فکشن اور شاعری۔۔۔۔۔۔ہر موڑ پہ مینارِ فاروقی تاقیامت روشنی بکھیرتا رہے گا۔

ڈاکٹر خالد مبشر




معاون پروفیسر

شعبہء اردو
جامعہ ملیہ اسلامیہ
نئی دہلی

 242 total views,  6 views today