اردو کے ماہر ادیب ناقد شمس الرحمن فاروقی اب نہیں رہے

اردو ادب کے مشہور ومعروف ناقد و محقق ، ادب میں جدیدیت اور جدید تشریحات کے بانی و روح رواں جناب شمس الرحمن فاروقی صاحب ( 2020- 1935) آج 25 ڈسمبر بروز جمعہ علی الصبح اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ موصوف اردو دنیا کی مایہ ناز شخصیت اور آئی اے ایس آفیسر تھے. کوئریا پار،محمدآباد ،اعظم گڈھ، کے رہنے والے تھے. شبلی کالج کے شعبہ انگریزی کے سابق استاد ، آپ کا مستقل قیام آلہ آباد میں تھا. بہت سی اردو تصنیفات کے خالق تھے. کئی چاند سرےآسماں ، تفہیم غالب جیسی تصنات کے خالق ، آپ کی تصنیفات کو اردو دنیا میں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا. ان کی سب سے مشہور کتاب چار جلدوں میں “شعر شور انگیز “ہے جو میر تقی میر کی زندگی اور انکی شاعری کے بارے میں ہے جس پر 1996 میں انہیں سر سوتی سمان سے سرفراز کیا گیا تھا۔ ان کو علیگڑھ مسلم یونیورسٹی علیگڑھ سے ڈی لٹ کی اعزازی ڈگری بھی دی گئی تھی ۔پدم شری سے بھی نوازے جاچکی تھے ،ان کے انتقال سے ادبی دنیا میں جو خلا پیدا ہوا ہے. وہ اب شاید ہی پر ہو سکے. اللہ ان کو جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور اس خلاء کو پر کرنے کی سبیل پیدا فرمائے آمین

بنائیں گے نئی دنیا ہم اپنی
تیری دنیا میں اب رہنا نہیں ہے
( شمس الرحمن فاروقی)

مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم
تو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کئے
( مرزا غالب)

(محمد خالد ، شعبہ معاشیات )

شمس الرحمٰن فاروقی صاحب کے سانحہ ارتحال پر ایک قطعہ

بزم ادب اداس گلستاں اداس ہے
دہلی و لکھنؤ کا دبستاں اداس ہے
رحلت سے آپ کی ہے ادب کا ستوں گرا
اردو ادب کا آج ہر انساں اداس ہے

शम्शुर्रमान फारूकी साहब के निधन पर

बज़्म अदब उदास गुलिस्तां उदास है
दिल्ली व लखनऊ का दबिसतां उदास है
रहलत से आप की है अदब का सूतुं गिरा
शौके अदब का आज हर इंसान उदास है

नदीम अंसारी नदीम

 172 total views,  2 views today