سشانت نے خودکشی کیوں کی؟ سشانت بولی ووڈ میں مثالی اداکار تھا

سشانت بولی ووڈ میں سب سے زیادہ امکانات رکھنے والا اداکار تھا۔ اس کا چہرہ بہت خوب صورت تھا اور جسم نئی فلمی ضروریات کے مطابق فٹ۔ پھر وہ اداکار بھی بہت اچھا تھا۔ میں نے ایک اور معیار بھی طے کر رکھا ہے کہ مرد اداکار کو لڑکی کے ساتھ نائس اور انسان کا بچہ لگنا چاہیے، بھوکا اور میلا درندہ نہیں۔ ششی کپور کے بعد سشانت تھا جو اس معیار پر پورا اترتا تھا۔ فلم پی کے کے گانے “چل دو نا ساتھ میرے” کا سیکوئنس کسے یاد نہیں ہوگا۔ اس میں وہ سین یاد کیجیے جس میں سشانت بالکونی میں کھڑا ہے۔ میں نے یہ گانا درجنوں بار دیکھا ہوگا۔
پھر میں بلجیئم میں تھا جب پتا چلا کہ یہ گانا جس شہر میں فلمایا گیا ہے وہ قریب ہی ہے سو میں بروج جا پہنچا اور وہاں یادداشت میں تابندہ رہنے والا ایک دن گزارا اور جہاں ایک کشتی میں ایک نوجوان انڈین جوڑے سے ملاقات ہوئی جن سے میں نے اس گانے کا ذکر کیا اور جب خاتون نے پوچھا کہ کیا آپ پاکستانی ہیں تو سر ہلاتے ہوئے اس سے کہا تھا کہ “سرفراز دھوکا نہیں دے گا”اور یہ کہتے ہوئے حلق میں آنسوؤں کا نمک گھلتا ہوا محسوس ہوا تھا۔
سشانت نے خودکشی کیوں کی؟ اس نے تو زندگی سے بھرپور ایک وش لسٹ بھی بنائی ہوئی تھی۔ پھر کیوں؟ گوتم بدھ نے کہا تھا کہ دکھ کا سبب خواہش ہے۔ کیا خواہشوں کی کثرت اور ان کے پورا ہونے کی قلت نے اسے مار ڈالا یا پھر ایسے کسی دکھ نے جو وہ کسی سے شیئر نہیں کر پا رہا تھا۔
ہم اب اپنے دکھ کیوں شیئر نہیں کر پا رہے؟ ہندستان سے عزیز دوست سوربھ کمار شاہی نے سشانت کی موت کے پس منظر میں اس کی وجہ لکھی ہے۔ان کی تجویز پر خود میں بھی عامل نہیں ہو سکتا کہ زندگی بڑی حد تک اس ڈھب پر ڈالی جا چکی۔ تاہم آپ کے لیے سوربھ کی انگریزی پوسٹ کا ترجمہ حاضر ہے۔

“                                          سوربھ کمار شاہی کی پوسٹ:

پرائیویسی اور نجی زندگی سے متعلق مغربی طرز کا خبط اب قتلِ عام کا سبب بن چکا۔ اس خبط نے مغربی کرے میں لاکھوں انسانوں کی جان لی اور اب اس نے ہمیں بھی قتل کرنا شروع کر دیا ہے۔ ہم نتائج پر غور کیے بغیر اس طرزِ زندگی کی نقالی کرتے ہیں۔یہ ہے اس کا نتیجہ                              ۔
مت کریں اس طرزِ زندگی کی نقالی۔ نئے دوست بنائیں۔ پرانے دوستوں کے ساتھ گھومیں پھریں۔ ان کی زندگیوں میں ناک گھسیڑیں اور انھیں اپنی زندگی کے ساتھ بھی ایسا ہی کرنے دیں۔ بغیر بتائے ان کے دروازوں پر جا کر دستک دیں اور جب وہ بدلے میں یہی عنایت کریں تو انھیں خوش آمدید کہیں جیسے ہم اپنے دیہاتوں میں، اپنے چھوٹے چھوٹے شہروں میں کیا کرتے تھے۔
یہ پرائیویٹ زندگی وہ سب سے بڑا دھوکا ہے جو آپ سے کیا جا رہا ہے۔ اس کے مفروضہ سحر کے سامنے سپر نہ ڈالیں۔ لگا رہنے دیں انگریزوں، جرمنوں اور امریکیوں کو اس سے جوجھنے کے لیے۔ یہ ہمارے لیے نہیں۔
اپنے دوستوں سے باتیں کرتے رہیں۔ ان سے نجی نوعیت کے سوال کریں۔ مجھ پر اعتبار کریں، آپ کی یہ مداخلت زندگیوں کو بچا لے گی۔”

 151 total views,  1 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published.