خدا بخش خان کے کارنامے

خدا بخش خان
بانی خدا بخش اورئینٹل پبلک لائبریری اور قانون کے ماہر حیدرآباد کے جج

مولوی خدابخش خان پٹنہ کے مشہور خدا بخش اورئینٹل پبلک لائبریری کے بانی تھے جسے استنبول عوامی کتب خانہ (ترکی) کے بعد دنیا کے دوسرے سب سے بڑے کتب خانے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ آج یہ قومی اہمیت کے ادارے کے طور پر مان لیا گیا ہے کیونکہ 1969ء میں بھارت کے پارلیمنٹ کے ایک ایکٹ کی رو سے اس کتب خانے کی نگرانی حکومت اپنے ہاتھ میں لے چکی ہے۔ یہاں پر اردو، فارسی اور عربی کے ہزاروں دستاویزات موجود ہیں۔
خدا بخش اورینٹل پبلک( عوامی ) لائبریری1891 ء
کو خان بہادر مولوی محمد خدا بخش نے4000کتابوں کے مجموعے سے شروع کیا -جہاں بھارت کے فنی ادبی نادر کتب کے شکلیں و خطوط اور اکابرین کی ورثہ موجود ہیں –
آج کے دن قدیم دستکاری مع تصاویر والی کتابوں کو نمائش کرایا گیا ۔2
اگست کو خدا بخش خان کی یوم پیدائش ہ
مختصر حالات زندگی
خدابخش کی پیدائش 2 اگست 1842ء کو سیوان کے قریب “اُكھائی” گاؤں میں ہوئی تھی۔ ان کے آباواجداد مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر کی خدمت میں تھے۔ ان کے والد پٹنہ میں ایک مشہور وکیل تھے، لیکن وہ کمائی کا بڑا حصہ کتابیں خریدنے میں لگاتے تھے۔ انہوں نے ہی پٹنہ میں خدابخش کولایا تھا۔ خدابخش نے 1859ء میں پٹنہ ہائی اسکول سے بہت اچھے نشانات کے ساتھ میٹرک پاس کیا تھا۔ ان کے والد نے انہیں اعلی تعلیم کے لیے کولکتہ بھیج دیا، لیکن وہ نئے ماحول میں خود کو ہم آہنگ نہیں کر سکے اور وہ اکثر صحت کے مسائل سے پریشان رہے، بعد میں انہوں نے 1868ء میں اپنی قانون کی تعلیم مکمل کی اور پٹنہ میں پریکٹس شروع کر دیا، کم وقت میں ہی وہ ایک مشہور وکیل بن گئے۔
خدابخش کتب خانے کا افتتاح 1891ء میں بنگال کے نائب گورنر سر چارلس ایلیٹ نے کیا۔ اس وقت اس لائبریری میں تقریباً 4000 قلمی مخطوطات تھے۔
خدا بخش اورئینٹل پبلک لائبریری (ہندی: ख़ुदा बख़्श मशरिक़ी किताब ख़ाना، اردو: خدا بخش مشرقی کتب خانہ) بھارت کے قومی کتب خانوں میں سے ایک ہے۔ یہ کتب خانہ عوام کے لیے 1891ء میں کھولا گیا تھا۔ اِس کتب خانہ کے بانی خان بہادر مولوی خدا بخش خان تھے جنہوں نے 4,000 کتب کے ایک منفرد مجموعہ کے ساتھ اِس کتب خانہ کا آغاز کیا۔ اِس کتب خانہ کی عملداری وزارت ثقافت، حکومت ہند کے دائرہ اختیار میں ہے جبکہ اِس کی نمائندگی بہار کے گورنر کے پاس ہے۔ اِس کتب خانہ میں فارسی زبان، عربی زبان کے قلمی مخطوطات موجود ہیں جبکہ راجپوت اور مغل ادوارِ حکومت میں نمایاں شخصیات کی تصاویر بھی موجود ہیں۔

 185 total views,  2 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published.